محبّت ایک بہت پاک لفظ ہے . جس کے معنی بہت کم لوگ جانتے ہیں . یہ وہ احساس ہے جو دنیا کے ہر جاندار کے دل میں ہے . یہ جذبہ اس پوری کائنات پر غالب ہے مگر افسوس آج کل اس کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے . یہ وہ احساس ہے جو خود پیدا نہیں ہوتا بلکہ ہوجاتا ہے .اس مرض کی کوئی دوا نہیں مگر یہ ہر مرض کی دوا ہے .لوگ کہتے ہیں کے محبّت دھوکہ دیتی ہے مگر یہ غلط ہے محبّت نہیں بلکے محبّت کرنے والے دھوکہ دیتے ہیں . یہ تو ایک پاکیزہ رشتہ ہے جسے توڑنا چاہو تو نہ ٹوٹے … بھولنا چاہو تو بھول نہ پاؤ .
یہ وو شے ہے جو انسان کو جینا سیکھا دیتی ہے ، بیمار میں جان ڈال دیتی ہے ، ہنسنا ، مسکرانا سیکھا دیتی ہے . مشکلات می حوصلہ دیتی ہے . یہ امید کی کڑی ہے . امیدوں کو حوصلوں کو بڑھاوا دیتی ہے . محبّت انسان کے وجود می رچی بسی ہے اسے کوئی خود سے الگ نہیں کر سکتا . بس کوئی اپنے اندر اس خوبصورت جذبے کو پہچانتا تو کوئی اس سے ناآشنا ہوتا ہے اور زندگی کو نفرت ک دھویں میں جلا بیٹھتا ہے . کسی کو اس کی قدر کا احساس ہوتا ہے تو کسی کو نہیں … اور جو قدر نہیں کرتے ، محبّت ان کی قدر نہیں کرتا اور انھیں دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے لئےچھوڑ دیتا ہے .
الله تعالیٰ اپنے بندوں سے بے حساب محبّت کرتا ہے اور جو لوگ الله کے بندوں سے محبّت کرتے ہیں وہ  صدا کامیاب رہتے ہیں  !!

I wrote this when i was in 10th grade … today found this in my old stuff today , so thought i should share it with you guys 🙂 do tell me if you like it !!

Advertisements

One thought on “محبّت کیا ہے ؟

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s