صاحب علم کوئی نہیں

The Way I Think

ہمارے معاشرے میں لوگ کچھ ایسے جملے استعمال کرتے ہیں جو نہایت ہی بےمعنی اور بے مطلب ہوتے ہیں . بلکے انکے بولنے پر پابندی لگا دینی چاہیے . جیسے کے ایک جملہ ہے “لوگ کیا کہیں گے “ یہ جملہ بہت ساری تباہیوں کی جڑ ہے اور یہ جملہ انتہائی جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے مگر اب کسے سمجھیا جائے!  اسی طرح کا ایک جملہ اور بھی ہے اور وہ ہے “اتنا پڑھ لکھ کے کیا کرنا تھا جب نوکری ہی نہیں ملنے والی “ کافی عجیب سا لگتا ہے یہ جملہ مجھے آخر پڑھنے لکھنے کا نوکری سے کیا تعلق ؟ علم تو انسان اپنے فائدے کے لئے حاصل کرتا ہے مگر آجکل لوگ علم کا اصل مقصد بھول گئے ہیں . وہ علم کو پیسے حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں . بلکے یہ سب تو آج سے نہیں یہ سب تو شاید تب سےہوتا چلا…

View original post 564 more words

دسمبر کا مہینہ

دسمبر … یہ لفظ سنتے ہی ہمیں جھر جھری آنے لگتی ہے . میرے حساب سے یہ سال کا سب سے خوبصورت مہینہ ہے ، مجھے پتا ہے کہ آپ لوگ مجھ سے اتفاق نہیں کریں گے کیوں کے ہر کسی کو موسم بہار پسند ہوتا ہے . رنگوں کا مہینہ ، خوشبوں کا مہینہ ، نہ سردی نہ گرمی ، غرض یہ بہار کا مہینہ سب کو اتنا پسند ہے ک ہر غزل ، ہر گیت ، ہر قصے ہر کہانی میں ہر خوشی کے منظر کو بہار سے تشبیہ دی جاتی ہے . جب کے دسمبر کے مہینے کو ہر کوئی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں سے منسلق کرتا ہے . ہر شاعر جب بھی دسمبر کے بارے میں لکھتا ہے تو بس غم ، اداسی ، تنہائی اور بیوفائی کے بارے میں ہی لکھتا ہے جیسے ہر تکلیف کا زمیدار دسمبر کا مہینہ ہو . مانا کے یہ مہینہ سرد ہے لیکن یقین جانیں اس کی سردی میں اپنا ہی لطف ہے ، سال کا یہ آخری مہینہ اپ کو تنہا نہیں کرتا بلکے اپنی تنہائی میں شریق چاہتا ہے . اپ مانیں یا نہ مانیں دسمبر کے ساتھ بہت زیادتیاں ہوئی ہیں ، اب ہر ناکام محبّت ، ہر لاحاصل منزل کو حاصل نہ کرپانے پر ایک معصوم سے ، بےضرر مہینے کو دوش تو نہیں دیا جا سکتا نہ  ؟ آج میں اپ کو دسمبر کے مہینے کی وہ چپھی خوبیاں بتاؤں گی جن سے ہم لُطفاندوز تو ہوتے ہیں مگر اس کو داد نہیں دے پاتے .

سب سے پہلے تو دسمبر کی صبح کو ہی لے لیں … صبح صبح جب دھیمے دھیمے سورج کی کرنیں رات کی سردی سے روکھی زمین پر پڑھتی ہے تو موسم بدلنے کا یہ پہلہ مرحلہ ہوتا ہے ، دسمبر کے ہر دن میں کہیں مرحلے ہوتے ہیں . اور یہی اسے خاص بناتے ہیں . اس دھیمی دھوپ سے واقف صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو صبح سویرے بیدار ہوتے ہیں . پھر دن چڑھنے کے ساتھ ساتھ دھوپ  کی تپیش تیز ہوجاتی ہے ، اور سرد ہوا میں تیز دھوپ ہمارے لئے قدرت کے تحفے سے کم نہیں . ہمارے کچھ نازک بیبیوں کو بڑی شکایت ہے اس دھوپ سے ، کہ سردی کی دھوپ سے ان کا رنگ کالا ہو جاتا ہے . لیکن اسی دھوپ کی وجہ سے مزدور پیشہ لوگوں کو کام میں کتنی آسانی ہوتی ہے . جب سرد ہواؤں کی وجہ سے کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے تو دھوپ کی تپیش آپ کے کام میں آسانی پیدا کر دیتی ہے .چونکے دسمبر کے مہینے میں دن چھوٹے ہوتے ہیں تو بنسبت باقی مہینوں کے ہمیں کام بھی کرنا پڑتا ہے اور راتیں لمبی ہونے کے بیس آرام زیادہ نصیب ہوتا ہے . دسمبر کے دن تو چٹکی بجا کے ختم ہوجاتے ہیں اور پھر جو سب سے خوبصورت وقت ہوتا ہے ، وہ شام کا وقت ہوتا ہے . جب سورج ڈھلتا ہے اور آسمان کہیں رنگوں کے ملاپ سے بھر جاتا ہے ، بادل روئی کے گالوں جیسے نظر اتے ہیں اور سورج کی کرنیں جو کہیں رنگ روپ دھار لیتے ہیں ، بےحد خوبصورت اور جذب نظر منظر پیش کرتے ہیں . اور اس دور دور تک پھیلے رنگوں کا مجموعہ کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ گرما گرم کڑک چاۓ کا کپ بھی ہو تو تو کیا ہی بات ہے . یقین جانیں یہ وہ لمحات ہیں جن سے بھر پور طریقے سے لُطفاندوز ہوا جائے تو دسمبر کے مہینے کا پورا سال انتظار رہتا ہے . غروب آفتاب کی خوبصورتی سے پہاڑی علاقاجات کے لوگ بخوبی واقف ہوں گے ، جو منظر پہاڑوں کے بیچ میں سورج کے غروب ہونے کا ہوتا ہے وہ شہر کے لوگ بس تصویروں میں ہی دیکھ پاتے ہیں . سردیوں میں آگ جلانا اگر چہ مشکل کام ہے مگر اتنا ہی پرسکون بھی ہے . آج کل تو خیر ہیٹر آگے ہیں ، گیس اور بجلی سے چلنے والے مگر شہروں سے دور گاؤں اور قصبوں میں ابھی وہی رواج عام ہے . جو مزہ سردیوں کی چھٹیوں میں نانی کے گھر جا کر جلتے ہوئے آگ کی اڑتی چنگاریوں کو دیکھنے میں ہے اور کہیں نہیں اور آگ میں لکڑیاں ڈالنے کا شوق تو کبھی بھی ختم نہیں ہوتا چاھے کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہو جائیں .

چونکے دسمبر کے مہینے کی راتیں بڑی ہیں اس لئے وہ وقت جو ہم اپنی مصروف زندگیوں میں کھو کر اپنے گھروالوں کو نہیں دے پاتے ، وہی موقع ہمیں یہاں ملتا ہے . سردیوں کا آغاز ہوتے ہی لڈو ، تاش ، کیرمبورڈ ، اور اسی طرح کے مختلف کھل جو گرم کمروں میں بیٹھ کے کھیلے جاتے ہیں بند درازوں سے نکل کر منظرعام پر آجاتے ہیں . اور پھر محفلیں جم جاتی ہیں . انہی محفلوں میں قہوہ کا بھی دور چلاتا  ہے . غرض تفریح کو جانے والے اور نہ جاننے والے دونوں مزاج کے لوگ دسمبر کے مہینے سے لُطفاندوز ہو سکتے ہیں . دسمبر کی بارش تو سب سے مشہور ہے ، مانا کے ہمیں اس میں کھیلنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے مگر پھر بھی سردی میں بارش کا اپنا ہی مزہ ہے .گرم گرم پکوڑے اور ساتھ میں چٹنی اور گرم گرم چاۓ بس منہ میں پانی لادنے والی باتیں ہیں ، لیکن جب تک دسمبر ہے یہ سب ہو سکتا ہے . تو اب دسمبر کے پرسوز مہینے میں غمگین غزلیں اور بیتی یادوں کو یاد کرنا چھوڑ دیں بلکے اسی دسمبر کو نئی اور خوبصورت یادوں سے بھر دیں تا کے جب یہ دوبارہ آے تو اپ کے چہرے پی مسکان لاے

فریال جوگیزئی