صاحب علم کوئی نہیں

The Way I Think

ہمارے معاشرے میں لوگ کچھ ایسے جملے استعمال کرتے ہیں جو نہایت ہی بےمعنی اور بے مطلب ہوتے ہیں . بلکے انکے بولنے پر پابندی لگا دینی چاہیے . جیسے کے ایک جملہ ہے “لوگ کیا کہیں گے “ یہ جملہ بہت ساری تباہیوں کی جڑ ہے اور یہ جملہ انتہائی جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے مگر اب کسے سمجھیا جائے!  اسی طرح کا ایک جملہ اور بھی ہے اور وہ ہے “اتنا پڑھ لکھ کے کیا کرنا تھا جب نوکری ہی نہیں ملنے والی “ کافی عجیب سا لگتا ہے یہ جملہ مجھے آخر پڑھنے لکھنے کا نوکری سے کیا تعلق ؟ علم تو انسان اپنے فائدے کے لئے حاصل کرتا ہے مگر آجکل لوگ علم کا اصل مقصد بھول گئے ہیں . وہ علم کو پیسے حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں . بلکے یہ سب تو آج سے نہیں یہ سب تو شاید تب سےہوتا چلا…

View original post 564 more words

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s