What My Text Book Says

23rd March Special !

The Way I Think

An internally displaced boy attends school at the UNHCR Jalala camp in Mardan district

While going through my Pakistan Studies text book today few sentences caught my attention, those few sentences which I have been rote learning since grade one. But today they looked really different to me as if it’s my first time reading them, it felt really hard understanding them. The paragraph was about why we wanted a separate homeland? What was the ideology of Pakistan? My text book answered these questions by saying “The definition of Pakistan’s ideology is that Muslims should have a state where they have the opportunity to live according to their faith and creed based on the Islamic principles. They should have all the resources at their disposal to enhance Islamic culture and civilization because this was the sole purpose of demanding a separate homeland for the Muslims”. After reading these lines a few questions rose in my mind.
Is that really so? After getting a piece…

View original post 940 more words

مثبت خیالات کا ایندھن

The Way I Think

ہمیں ہمیشہ چھوٹی چھوٹی ترغیبی باتوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ہماری آگے بڑھنے میں مدد کرسکیں. ہمیں ہمیشہ ایسے قول پڑھنے چاہیے جس سے اچھے کام کرنے کا جذبہ بڑھے. ہر بڑے کام کا آغاز کسی چھوٹے منصوبے سے ہوتا ہے اور منصوبے عموماً چھوٹی باتوں سے یا لوگوں سے متاثر ہو کر بنتے ہیں. اب آپ کو یہ اوپر کی سطریں پڑھ کر یہی لگ رہا ہوگا کہ یہ باقی سب آرٹیکلز کی طرح کوئی گھسا پٹا آرٹیکل ہے. جس میں زندگی میں آگے بڑھنے اور کچھ کرنے کی تقریر ہوگی اور مایوسی سے نجات پانے کے طریقے بتاے جایئں گے، تو آپ کو بلکل صحیح لگ رہا ہے. یہ واقعی ایسا ہی آرٹیکل ہے لیکن یہ آرٹیکل ان تمام آرٹیکلز کے بارے میں ہے جنھیں ہم انگریزی زبان کا لفظ “Cliché”( گھسا پٹا یا مبتزل طرز کی چیز) کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، اور آگے بڑھ…

View original post 609 more words

امن کا راز

The Way I Think

یہ جاننا  بہت ضروری ہے کہ ایک انسان کو  خوش ہونے کے لئے ، ایک خوشگوار خاندان ہونے کے لئے یا ایک خوشگوار معاشرے کے لئے ایک اچھا دل ہونا بہت ضروری ہے . دنیاوی امن انسان کے اندرونی سکون سے پیدا ہوتا ہے . امن  کا مطلب یہ نہیں کے عدم تشدد ہو تو امن ہے بلکے امن کا مطلب ہے انسانی ہمدردی ظاہر کرنا

ہم عارضی خوشی کو خوش ہونا کہتے ہیں اور اس خوشی کے ختم ہوتے ہی ماتم کرنا شروع کر دیتے ہیں . اصل خوشی انسان کا اندرونی سکون ہوتی  ہے جو برے حالت میں بھی خوش رہنے سے ہوتی ہے . دوسروں کی طرف ہمدردی دکھانے سے دوسروں کی خوشی میں خوش ہونے سے ہی سکون ملتا ہے اور اپنے ساتھ ہم دوسروں کو بھی خوش رکھتے ہیں۔

اس سے پہلے اپنے گھر میں  پھر معاشرے میں خوشی، امن اور سکون پھیلنے لگتا ہے…

View original post 139 more words

صاحب علم کوئی نہیں

The Way I Think

ہمارے معاشرے میں لوگ کچھ ایسے جملے استعمال کرتے ہیں جو نہایت ہی بےمعنی اور بے مطلب ہوتے ہیں . بلکے انکے بولنے پر پابندی لگا دینی چاہیے . جیسے کے ایک جملہ ہے “لوگ کیا کہیں گے “ یہ جملہ بہت ساری تباہیوں کی جڑ ہے اور یہ جملہ انتہائی جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے مگر اب کسے سمجھیا جائے!  اسی طرح کا ایک جملہ اور بھی ہے اور وہ ہے “اتنا پڑھ لکھ کے کیا کرنا تھا جب نوکری ہی نہیں ملنے والی “ کافی عجیب سا لگتا ہے یہ جملہ مجھے آخر پڑھنے لکھنے کا نوکری سے کیا تعلق ؟ علم تو انسان اپنے فائدے کے لئے حاصل کرتا ہے مگر آجکل لوگ علم کا اصل مقصد بھول گئے ہیں . وہ علم کو پیسے حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں . بلکے یہ سب تو آج سے نہیں یہ سب تو شاید تب سےہوتا چلا…

View original post 564 more words

دسمبر کا مہینہ

دسمبر … یہ لفظ سنتے ہی ہمیں جھر جھری آنے لگتی ہے . میرے حساب سے یہ سال کا سب سے خوبصورت مہینہ ہے ، مجھے پتا ہے کہ آپ لوگ مجھ سے اتفاق نہیں کریں گے کیوں کے ہر کسی کو موسم بہار پسند ہوتا ہے . رنگوں کا مہینہ ، خوشبوں کا مہینہ ، نہ سردی نہ گرمی ، غرض یہ بہار کا مہینہ سب کو اتنا پسند ہے ک ہر غزل ، ہر گیت ، ہر قصے ہر کہانی میں ہر خوشی کے منظر کو بہار سے تشبیہ دی جاتی ہے . جب کے دسمبر کے مہینے کو ہر کوئی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں سے منسلق کرتا ہے . ہر شاعر جب بھی دسمبر کے بارے میں لکھتا ہے تو بس غم ، اداسی ، تنہائی اور بیوفائی کے بارے میں ہی لکھتا ہے جیسے ہر تکلیف کا زمیدار دسمبر کا مہینہ ہو . مانا کے یہ مہینہ سرد ہے لیکن یقین جانیں اس کی سردی میں اپنا ہی لطف ہے ، سال کا یہ آخری مہینہ اپ کو تنہا نہیں کرتا بلکے اپنی تنہائی میں شریق چاہتا ہے . اپ مانیں یا نہ مانیں دسمبر کے ساتھ بہت زیادتیاں ہوئی ہیں ، اب ہر ناکام محبّت ، ہر لاحاصل منزل کو حاصل نہ کرپانے پر ایک معصوم سے ، بےضرر مہینے کو دوش تو نہیں دیا جا سکتا نہ  ؟ آج میں اپ کو دسمبر کے مہینے کی وہ چپھی خوبیاں بتاؤں گی جن سے ہم لُطفاندوز تو ہوتے ہیں مگر اس کو داد نہیں دے پاتے .

سب سے پہلے تو دسمبر کی صبح کو ہی لے لیں … صبح صبح جب دھیمے دھیمے سورج کی کرنیں رات کی سردی سے روکھی زمین پر پڑھتی ہے تو موسم بدلنے کا یہ پہلہ مرحلہ ہوتا ہے ، دسمبر کے ہر دن میں کہیں مرحلے ہوتے ہیں . اور یہی اسے خاص بناتے ہیں . اس دھیمی دھوپ سے واقف صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو صبح سویرے بیدار ہوتے ہیں . پھر دن چڑھنے کے ساتھ ساتھ دھوپ  کی تپیش تیز ہوجاتی ہے ، اور سرد ہوا میں تیز دھوپ ہمارے لئے قدرت کے تحفے سے کم نہیں . ہمارے کچھ نازک بیبیوں کو بڑی شکایت ہے اس دھوپ سے ، کہ سردی کی دھوپ سے ان کا رنگ کالا ہو جاتا ہے . لیکن اسی دھوپ کی وجہ سے مزدور پیشہ لوگوں کو کام میں کتنی آسانی ہوتی ہے . جب سرد ہواؤں کی وجہ سے کام کرنا مشکل ہوجاتا ہے تو دھوپ کی تپیش آپ کے کام میں آسانی پیدا کر دیتی ہے .چونکے دسمبر کے مہینے میں دن چھوٹے ہوتے ہیں تو بنسبت باقی مہینوں کے ہمیں کام بھی کرنا پڑتا ہے اور راتیں لمبی ہونے کے بیس آرام زیادہ نصیب ہوتا ہے . دسمبر کے دن تو چٹکی بجا کے ختم ہوجاتے ہیں اور پھر جو سب سے خوبصورت وقت ہوتا ہے ، وہ شام کا وقت ہوتا ہے . جب سورج ڈھلتا ہے اور آسمان کہیں رنگوں کے ملاپ سے بھر جاتا ہے ، بادل روئی کے گالوں جیسے نظر اتے ہیں اور سورج کی کرنیں جو کہیں رنگ روپ دھار لیتے ہیں ، بےحد خوبصورت اور جذب نظر منظر پیش کرتے ہیں . اور اس دور دور تک پھیلے رنگوں کا مجموعہ کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ گرما گرم کڑک چاۓ کا کپ بھی ہو تو تو کیا ہی بات ہے . یقین جانیں یہ وہ لمحات ہیں جن سے بھر پور طریقے سے لُطفاندوز ہوا جائے تو دسمبر کے مہینے کا پورا سال انتظار رہتا ہے . غروب آفتاب کی خوبصورتی سے پہاڑی علاقاجات کے لوگ بخوبی واقف ہوں گے ، جو منظر پہاڑوں کے بیچ میں سورج کے غروب ہونے کا ہوتا ہے وہ شہر کے لوگ بس تصویروں میں ہی دیکھ پاتے ہیں . سردیوں میں آگ جلانا اگر چہ مشکل کام ہے مگر اتنا ہی پرسکون بھی ہے . آج کل تو خیر ہیٹر آگے ہیں ، گیس اور بجلی سے چلنے والے مگر شہروں سے دور گاؤں اور قصبوں میں ابھی وہی رواج عام ہے . جو مزہ سردیوں کی چھٹیوں میں نانی کے گھر جا کر جلتے ہوئے آگ کی اڑتی چنگاریوں کو دیکھنے میں ہے اور کہیں نہیں اور آگ میں لکڑیاں ڈالنے کا شوق تو کبھی بھی ختم نہیں ہوتا چاھے کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہو جائیں .

چونکے دسمبر کے مہینے کی راتیں بڑی ہیں اس لئے وہ وقت جو ہم اپنی مصروف زندگیوں میں کھو کر اپنے گھروالوں کو نہیں دے پاتے ، وہی موقع ہمیں یہاں ملتا ہے . سردیوں کا آغاز ہوتے ہی لڈو ، تاش ، کیرمبورڈ ، اور اسی طرح کے مختلف کھل جو گرم کمروں میں بیٹھ کے کھیلے جاتے ہیں بند درازوں سے نکل کر منظرعام پر آجاتے ہیں . اور پھر محفلیں جم جاتی ہیں . انہی محفلوں میں قہوہ کا بھی دور چلاتا  ہے . غرض تفریح کو جانے والے اور نہ جاننے والے دونوں مزاج کے لوگ دسمبر کے مہینے سے لُطفاندوز ہو سکتے ہیں . دسمبر کی بارش تو سب سے مشہور ہے ، مانا کے ہمیں اس میں کھیلنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے مگر پھر بھی سردی میں بارش کا اپنا ہی مزہ ہے .گرم گرم پکوڑے اور ساتھ میں چٹنی اور گرم گرم چاۓ بس منہ میں پانی لادنے والی باتیں ہیں ، لیکن جب تک دسمبر ہے یہ سب ہو سکتا ہے . تو اب دسمبر کے پرسوز مہینے میں غمگین غزلیں اور بیتی یادوں کو یاد کرنا چھوڑ دیں بلکے اسی دسمبر کو نئی اور خوبصورت یادوں سے بھر دیں تا کے جب یہ دوبارہ آے تو اپ کے چہرے پی مسکان لاے

فریال جوگیزئی

کراچی، رنگوں کا مجموعہ

کراچی، رنگوں کا مجموعہ

The Way I Think

ہم انسان ہمیشہ تبدیلی کی تلاش میں ہوتے ہیں ، کیوں کے اگر زندگی ایک ہی رخ میں چلتی تو شاید کوئی بھی اسے گزرنے کا روادار نہیں ہوتا . زندگی میں تبدیلی لانے کے لئے ہم سفر کرتے ہیں . مختلف شہروں ، مختلف ملکوں کا سفر اور اس سفر کے دوران ہم زندگی کے مختلف پہلو سے اگاہ ہوتے ہیں . سفر چاہے اندروں ملک ہو یا بیرون ملک ، ہمیں ہمیشہ بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے . دوسرے علاقوں کے لوگ کیسے گزر بسر کرتے ہیں ، کیا کھاتے ہیں ، کیا اوڑھتے ہیں ، ان کے رسم و رواج کیا ہیں ؟ یہ سب ہماری توجہ کا بیس بنا رہتا ہے . ہر شہر کے دو پہلو ہوتے ہیں ، روشن اور تاریک . دونو ہیں اس شہر کو مختلف بناتے ہیں . میرے کراچی کے سفر میں  بھی مجھے بہت کچھ نیا سیکھنے…

View original post 988 more words

۔ ۔ ۔ ۔ احمد کا پاکستان ۔ ۔ ۔ ۔

Wrote For https://thewayithinkblog.wordpress.com/ !!
Ahmed Ka Pakistan !!

The Way I Think

امی: احمد بیٹا اسکول سے آ رہے ہو ؟ اتنی دیر کر دی ہے ، چلو جلدی سے وردی بدل لو اور کھانا کھا لو’. آج جمعہ ہے کام پر بھی جلدی جانا ہے تم نے۔

احمد:  جی امی۔

احمد کپڑے بدل کر کھانا کھا نے لگا اور اپنی امی کو اپنے اسکول کے دن کے بارے میں خوشی خوشی بتانے لگا ، کیسے آج اسکول میں بچوں نے خاکے پیش کیے ، تقریریں کیں اور ملی نغمے گائے . اس کی امی نے ڈانٹ کر کہا “بس اب بولنا بند کرو اور جلدی جلدی کھانا کھاؤ . کام پر دیر ہو گئی تو استاد جی بڑا خفا ہوں گیں”. یہ بات سنتے ہی احمد جو اب تک چہک چہک کر بول رہا تھا ایک دم ہی منہ لٹک گیا اس کا . وہ جو اسکول سے ڈھیر ساری باتیں سوچ کر آیا تھا کے امی کو بتاے گا سب بےکار…

View original post 533 more words